منہاج القرآن یوتھ لیگ کے زیراہتمام سیمینار: اقبال کا شاہین اور آج کا پاکستان

منہاج القرآن یوتھ لیگ لاہور کے زیراہتمام 8 نومبر 2010ء کو مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں یوم اقبال کے سلسلہ میں خصوصی سیمینار "علامہ اقبال کا شاہین اور آج کا پاکستان" منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارات مرکزی صدر MYL چوہدری بابر علی نے کی جبکہ مرکزی صدر MSM تجمل حسین انقلابی مہمان خصوصی تھے۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز قاری کاشف چشتی سیکرٹری جنرل MYL لاہور نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ اس کے بعد اویس کموکا نے نعت مبارکہ پڑھی۔ سیمینار میں مختلف مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ اقبال کی فکر کو عصر حاضر کے مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے علامہ کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔

سیمینار میں بابر چوہدری نے کہا ہمارے ہاں صرف مصور پاکستان کے طور پر اقبال کی افکار کی ترویج کی جا رہی ہے حالانکہ اقبال کی تعلیمات اور ان کے افکار کے بحر بیکراں سے استفادہ نہ کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کی فکر اور سوچ کو نئی نسل میں منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ علامہ اقبال نے نوجوان نسل کو یکجا کرنے کا پیغام عام کیا، آج اسی پیغام کوعملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔

ثناء اللہ طاہری سیکرٹری جنرل MYL نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکیسیویں صدی کا پاکستان اقبال کا پاکستان ہے۔ یہ وقت پاکستان کی آبرو بچانے کا وقت ہے۔ پاکستان اس وقت سنگین صورتحال سے دو چار ہے۔ ملک کو بچانے اور اس صورتحال سے نکالنے کے لئے نوجوان نسل کو علامہ اقبال کے افکار کی پیروی کرنا ہوگی۔

مرکزی صدر MSM تجمل حسین انقلابی نے کہا کہ اقبال کی تعلیمات پر عمل کر کے ملک کو بحرانوں سے نکالا جاسکتا ہے۔ سینئرنائب صدر MYL اشتیاق حنیف مغل نے کہا کہ علامہ اقبال ملت اسلامیہ کی نوجوانوں کو شاہین قرار دے کر عقابی روح بیدار کرنے کا درس دیتے ہیں۔ علامہ نوجوانوں کو اپنی خودی مستحکم کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ شاعر مشرق مومن کو جگر لالہ کے لئے شبنم اور باطل کے لئے دریاؤں کے دل دہلا دینے والا طوفان قرار دیتے ہیں۔ اقبال اتحاد امت کا نقیب ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کو سخت محنت، جدوجہد اور عمل پیہم کی تلقین کرتے تھے۔ آج اگر ہمیں پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے تو اقبال کی فکر پر من و عن عمل کرنا ہوگا۔ آج شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری بھی فکر اقبال اور اسلام کے آفاقی پیغام کو دنیا کے سامنے عام کر رہے ہیں۔ سیمینار میں محمد طیب ضیاء، حافظ وقار احمد، کاشف چشتی، چوہدری اقبال یوسف نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کا اختتام دعا سے ہوا۔

رپورٹ : چوہدری عتیق الرحمن

تبصرہ