منہاج القرآن یوتھ لیگ

منہاج القرآن یوتھ لیگ، تحریک احیائے اسلام تحریک منہاج القرآن کا ہراول دستہ ہے۔ یوتھ لیگ دعوتی و تنظیمی علمی و روحانی اور تعلیمی و تربیتی پلیٹ فارم ہے جو امت مسلمہ کے نوجوانوں کوایمان اور عمل صالحہ کے ساتھ ساتھ تحریکی اور انقلابی بنیادوں پر قوم کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ اس سے وابستہ نوجوان اپنی تعلیمی و تدریسی اورمعاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غلبہ دین حق کی بحالی اور امت مسلمہ کے اتحاد و احیاء کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

قیام کا مقصد

منہاج القرآن یوتھ لیگ کا مقصد اولین نوجوانوں کی سیرت و کردار کو اس طرح تعمیر کرنا ہے کہ وہ دنیا کی امامت، قیادت کا فریضہ ادا کرسکیں اور معاشرے سے باطل، طاغوت استحصال اور ظلم پر مبنی نظام کا خاتمہ کر دیں اور ان کی جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پرامن مصطفوی انقلاب کا سویرا طلوع ہوجائے۔

منہاج القرآن یوتھ لیگ کی مرکزی قیادتیں

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ منہاج القرآن یوتھ لیگ کا باقاعدہ آغاز 30 نومبر 1988ء کو ہوا مگر اس منزل تک پہنچنے کےلئے جو ایک طویل اور پرکٹھن سفر طے کیا گیا وہ بھی اس سفر انقلاب کا باقاعدہ حصہ ہے۔ اس پس منظر کے بغیر یوتھ لیگ کا ذکر نامکمل محسوس ہوتا ہے پس 12 اکتوبر 1984ء کا دن تحریک منہاج القرآن میں اس اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس مبارک دن قائد تحریک نے اصلاح احوال، احیائے اسلام اور تجدید دین کے عظیم مشن کے سرگرم نوجوانوں کی تنظیم و تربیت کےلئے جامع مسجد رحمانیہ شادمان لاہور میں ایک الگ فورم کے قیام کا اعلان فرمایا۔ اپنے نوجوان قائد کی پکار پر پُرعزم نوجوانوں نے لبیک کہتے ہوئے مصطفوی انقلاب کی منزل کو حاصل کرنے کا عزم کیا۔ اس اجلاس میں یوتھ فورم کے نام کا اعلان اور اس کی انتظامی باڈی کی تشکیل ہونا تھی۔ نوجوانوں نے مختلف نام پیش کئے اور بالآخر ”سپاہ اسلام“ اور ”کاروان اسلام“ کے دو ناموں پر حاضرین کی کثیر تعداد متفق ہوگئی۔ آخر کار نوجوانوں کے اس فورم کا نام ”سپاہ اسلام“ رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ یوں تحریک منہاج القرآن کے پہلے یوتھ فورم سپاہ اسلام کے قیام کا اعلان ہوا پھر اس کی مرکزی سطح پر گیارہ نوجوانوں پر مشتمل مرکزی کونسل تشکیل دی گئی۔

گیارہ رکنی مرکزی کونسل سپاہ اسلام پاکستان

  1. اشفاق حسین ہمذالی (انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور)
  2. ڈاکٹر سید شجاع الحسن قادری (علامہ اقبال ٹاؤن)
  3. راؤ ارتضیٰ حسین اشرفی (ایف سی کالج لاہور)
  4. غلام یٰسین منہاس (فیصل آباد)
  5. جناب آصف حسین چشتی ( انسٹیٹیوٹ فار پرنٹنگ اینڈ گرافک آرٹس لاہور)
  6. ڈاکٹر عارف حسین (کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور)
  7. صاحبزادہ خادم حسین طاہر (جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن لاہور)
  8. افتخار احمد نعیمی (جامعہ نعیمیہ لاہور)
  9. عبدالرشید ارشد (پنجاب یونیورسٹی لاہور)
  10. جناب ریاض مصطفی (کشمیری بازار لاہور)
  11. سید عادل حسن (علامہ اقبال ٹاؤن لاہور)

یوتھ لیگ کے دستور کی تیاری کےلئے پہلی دستور ساز کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے مارچ 1988ء کو اس یوتھ لیگ کا پہلا دستور تیار کر لیا۔ اس دستور کا بنیادی خاکہ پروفیسر غلام یاسین منہاس نے تیار کیا تھا جو کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے۔ دیگر احباب کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. کفایت اللہ نیازی (لاء کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور)
  2. ڈاکٹر غلام رسول (ڈینٹل کالج لاہور)
  3. سردار ظفر عزیز (پنجاب یونیورسٹی لاہور)
  4. محمد اکرم راعی (انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور)
  5. اشفاق حسین ہمذالی (انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور)
  6. شیخ محمد رشید (انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور)
  7. احمد حسین اعوان
  8. میاں محمد عاشق
  9. نثار اکبر

منہاج القرآن یوتھ لیگ کی پہلی کنویننگ باڈی

منہاج القرآن یوتھ لیگ کے دستور کی تیاری کے بعد مورخہ 30 نومبر 1988ء کو قائد تحریک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی صدارت میں ایک خصوصی اجلاس ہوا جس میں یوتھ لیگ کی پہلی نو رکنی کنویننگ باڈی اور مرکزی شوریٰ کا اعلان کیا گیا۔ یوں 30 نومبر 1988ء منہاج القرآن یوتھ لیگ کا یوم تاسیس قرار پایا۔ کنویننگ باڈی میں شامل حضرات کے نام یہ ہیں :

  1. ڈاکٹر تنویر الحق گھمن قادری (کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور) مرکزی کنوینئر
  2. شیخ محمد رشید (انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور) مرکزی ڈپٹی کنوینئر
  3. ڈاکٹر غلام رسول (ڈینٹل ہسپتال لاہور)
  4. علی اصغر چودھری (پنجاب یونیورسٹی لاہور)
  5. محمد ریاض میاں (اچھرہ لاہور)
  6. محمد اکرام راعی (انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور)
  7. محمد اعظم خان (زرعی یونیورسٹی فیصل آباد)
  8. سردار ظفر عزیز (پنجاب یونیورسٹی لاہور)
  9. محمد کفایت اللہ خان نیازی (پنجاب یونیورسٹی لاہور)

بعد میں درج ذیل احباب کو بھی مرکزی ڈپٹی کنوینئرز نامزد کیا گیا۔

  1. سید ابرار حسین کاظمی (علامہ قبال میڈیکل کالج لاہور)
  2. ضیاءالحق سعیدی (علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور)
  3. محمد قاسم القادری

اہم شعبہ جات اور ان کے ذمہ داران ساتھی

منہاج القرآن یوتھ لیگ کے انتظامی امور کو ابتداً، چھ شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔

  1. شعبہ نشرو اشاعت: ناظم محمد ریاض میاں، نائب ناظم، ڈاکٹر غلام رسول
  2. شعبہ تحقیق: ناظم محمد اکرم راعی، نائب ناظم ضیاءالحق سعیدی
  3. شعبہ تنظیمات: ناظم علی اصغر چودھری، نائب ناظم محمد قاسم القادری
  4. شعبہ مالیات: ناظم ڈاکٹر تنویرالحق قادری
  5. شعبہ دفتری امور: ناظم سردار ظفر عزیز ظفر، نائب ناظم سید ابرار حسین کاظمی
  6. شعبہ لائبریری و تربیت: ناظم شیخ محمد رشید، نائب ناظم احسان الحق

آفس انچارج کی ذمہ داریاں طاہر محبوب قادری ادا کرتے رہے۔

صدائے انقلاب کا اجراء

اسی ٹیم کی موجودگی میں یوتھ لیگ کا نمائندہ علمی، فکری، تحریکی اور تنظیمی شمارہ صدائے انقلاب کے نام سے شروع کیا گیا جس کے ایڈیٹر سید نوید قمر کو نامزد کیا گیا۔ ان کے ساتھ عملی معاونت اور رسالے کی تیاری کےلئے علی اکبر قادری، محمد رمضان قادری اور ندیم بٹ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ بعد ازاں اس ماہنامے کی ادارت کےلئے ڈاکٹر ضیاءالحق سعیدی کی خدمات حاصل کی گئیں جو ایک صالح، مخلص اور علم دوست ورکر تھے جو بعد ازاں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید ہوگئی۔ یقیناً ڈاکٹر ضیاءالحق سعیدی تحریک کا ایک عظیم سرمایہ تھے اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔

ممبران مرکزی مجلس مشاورت

مرکزی کنویننگ باڈی کے افراد کے علاوہ درج ذیل احباب کو نامزد کیا گیا۔

  1. ملک ناصر حمید اعوان (زرعی یونیورسٹی فیصل آباد)
  2. محمد اظہار الحق اعوان (زرعی یونیورسٹی فیصل آباد)
  3. محمد عبدالرحمن (گوجرانوالہ)
  4. محمد احسان الحق (پنجاب یونیورسٹی لاہور)
  5. نجیب احمد (لاہور)
  6. عبدالغفور سعیدی
  7. نور الزمان نوری

مرکزی ورکنگ کمیٹی کا قیام

شعبہ جات کو مزید موثر بنانے کےلئے 21 دسمبر 1988ء کو مرکزی ورکنگ کمیٹی تشکیل دی گئی اہم نام درج ذیل ہیں:

  1. کرامت علی قادری
  2. محمد اسلم طاہر
  3. محمد منیر القادری
  4. محمد منیر
  5. محمد شریف
  6. صفدر محمود مستوئی
  7. محمد جاوید نقشبندی
  8. محمد اشفاق ثاقب
  9. حبیب احمد قادری
  10. ابرار حسین مجوکہ
  11. حافظ محمد صفدر چودھری
  12. قاضی محمد اقبال قادری
  13. محمد زاہد عطاءکاہلوں
  14. غلام حسن
  15. محمد ایاز سعیدی
  16. محمد زاہد چودھری

یوتھ لیگ کی نظامت اعلیٰ

29 مارچ 1990ء کو قائد انقلاب نے اشفاق حسین ہمذالی کو یوتھ لیگ کا پہلا ناظم اعلیٰ نامزد فرمایا۔ یہ عرصہ 19 جون 1992ء تک قائم رہا پھر 19 جون 1992ء سے دو سال تک مشتاق احمد قادری صاحب اس ذمہ داری پر فائز رہے۔

منہاج القرآن یوتھ لیگ کے مرکزی صدور

ایشیاء کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے نوجوانوں کےلئے زیادہ کام سٹوڈنٹس ونگز پر کیا ہے جبکہ غیر طلباء میں بہت کم کام ہوا ہے۔ منہاج القرآن یوتھ لیگ ایشیاء کی سب سے بڑی یوتھ آرگنائزیشن کی حیثیت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ تحریک منہاج القرآن نے اول روز سے ہی اپنے عظیم اور اعلیٰ مقصد کے حصول کےلئے امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اپنی امیدوں کا مرکز و محور بنا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوتھ لیگ کے پلیٹ فارم سے قیادت سازی کا فریضہ ادا ہو رہا ہے۔

  1. محترم ڈاکٹر تنویرالحق گھمن نے 30 نومبر 1988ء سے 10 اکتوبر 1989ء تک مرکزی کنوینئر کے فرائض سرانجام دیئے۔ جو بعد ازاں فرائض منصبی کی ادائیگی کےلئے ساؤتھ افریقہ چلے گئے اور وہاں مشن کی خدمت کر رہے ہیں۔
  2. 10 اکتوبر 1989ء سے 3 مارچ 1990ء تک کا عرصہ محترم علی اصغر چودھری کے حصے میں آیا۔
  3. 3 مارچ 1990ء کو محترم سید ابرار حسین شاہ کاظمی مجددی کو یوتھ لیگ کا پہلا باقاعدہ مرکزی صدر نامزد کیا گیا۔
  4. یکم مئی 1990ء کو منہاج القرآن یوتھ لیگ کے مرکزی کنونشن میں قائد انقلاب نے محترم ڈاکٹر دلدار احمد قادری کو یوتھ لیگ کا مرکزی صدر نامزد فرمایا جنہوں نے 11فروری 1991ء تک یوتھ لیگ کی قیادت کے فرائض سرانجام دیئے۔
  5. 11 فروری 1991ء سے علی اصغر چودھری دوبارہ منتخب ہوئے اور 23 مارچ 1990ء تک مرکزی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
  6. 23 مارچ 1992ء سے یوتھ لیگ کی صدارت کا قلمدان محترم محمد بشیر خان لودھی کے ہاتھوں میں آیا ہے۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں
  • ابرار حنیف مغل
  • عبدالجبار کاشمیری
  • زاہد الیاس میر
  • محمد حنیف مصطفوی
  • نعیم علی
  • اور تنویر احمد خان اس کے صدر منتخب ہوئے۔

2000ء میں پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ منہاج القرآن یوتھ لیگ اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے باہمی اشتراک پر مشتمل پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ قائم ہوا تو محترم حبیب اللہ بٹ اور داؤد درانی بالترتیب اس کے چیف آرگنائزر منتخب ہوئے اس کے بعد عبدالقدوس درانی، امتیاز چودھری ایڈووکیٹ اور محترم وسیم ملک منہاج القرآن یوتھ کے مرکزی صدور منتخب ہوئے۔

منہاج القرآن یوتھ لیگ کے دیگر مرکزی قائدین

منہاج القرآن یوتھ لیگ میں مندرجہ ذیل نوجوانوں نے مختلف ذمہ داریوں پر اپنی خدمات انجام دیں اور تحریک کےلئے اپنے شب و روز صرف کئے۔

  1. محمد زاہد لطیف صدر صوبہ سندھ۔
  2. محمد اعظم بلوچ صدر صوبہ بلوچستان۔
  3. سہیل بشیر صدر صوبہ سرحد۔
  4. محمد اعجاز گنائی صدر آزاد کشمیر۔
  5. سید مجاہد حسین کاظمی صوبہ سرحد۔
  6. طاہر حمید تنولی سرحد۔
  7. نعیم خان کاکڑ نارووال سابق صدر صوبہ پنجاب۔
  8. محمد منصور القادری صوبائی صدر سندھ۔
  9. امان اللہ خان گشکوری صوبائی صدر بلوچستان۔
  10. رحیق احمد عباسی اسلام آباد۔
  11. محمد اقبال ہرل سرگودھا۔
  12. محمد احسن شریف مظفر آباد۔
  13. مصدق صدیق قادری کوئٹہ۔
  14. طاہر عرفان لاہور
  15. راجہ نصیر احمد جہلم۔
  16. عقیل احمد لاہور
  17. ساجد محمود بھٹی راولپنڈی۔
  18. رانا طاہر سلیم فیصل آباد۔
  19. محمد عظیم گنجیرا بھکر۔
  20. عبدالحفیظ مزاری راجن پور۔
  21. محمد شاہد راجن پور۔
  22. محمد فیصل بزدار۔
  23. مصباح اسحاق ملتان
  24. عابد ظفر قادری فیصل آباد۔
  25. فضل الحق مصطفوی جہلم۔
  26. طاہر خان سیالکوٹ۔
  27. محمد رضا سیالکوٹ
  28. یوسف یعفور گجرات
  29. زاہد سلیم صدیقی گجرات۔
  30. بلال مصطفوی ملتان۔
  31. مرزا اسلام شکر گڑھ۔
  32. چودھری آفتاب احمد سیالوی۔
  33. شیخ آصف قادری شکرگڑھ۔
  34. محمد افضل شکر گڑھ۔
  35. محمد حبیب اللہ شکر گڑھ
  36. شہباز حسین کاظمی نارووال
  37. بابر سیہول نارووال۔
  38. وسیم سرحدی۔
  39. آصف فراز لاہور
  40. افتخار بیگ لاہور۔
  41. شعیب مغل لاہور۔
  42. اشتیاق مغل لاہور۔
  43. اصغر ساجد لاہور۔
  44. راشد باجوہ سیالکوٹ۔
  45. حافظ سہیل سیالکوٹ۔
  46. چوہدری اصغر علی سرگودھا۔
  47. باسط ملک سیالکوٹ۔
  48. اطہر جاوید۔
  49. مرجان پشاور۔
  50. شفقت نیازی پشاور۔
  51. شفیق الرحمن کراچی۔
  52. نعیم انصاری کراچی۔
  53. غلام عباس آزاد

دعوت و تربیت کا نظام

اللہ رب العزت کے فضل وکرم اور پیغمبر انقلاب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصی توجہات و فیوضات سے قائد تحریک پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی زیر قیادت یوتھ لیگ نوجوانوں میں علمی وفکری، اخلاقی و روحانی، تعلیمی و شعوری، ثقافتی و سماجی، معاشی و سیاسی انقلاب بپا کرنے کےلئے کوشاں ہے جس کی دعوت درج ذیل پانچ بنیادوں پر قائم کی گئی ہے۔

  1. تعلق بااللہ
  2. ربط رسالت
  3. رجوع الی القرآن
  4. اتحاد امت
  5. غلبہ و اقامت دین

نوجوانوں کی تربیت کا کام مرحلہ وار انہی عنوانات کے تحت ہو رہا ہے۔ منہاج القرآن یوتھ لیگ کی ہمہ گیر جدوجہد کا معروف عنوان ”مصطفوی انقلاب“ ہے جو ایک کامل تبدیلی سے عبارت ہے اور بیک وقت دعوت، اصلاح، تجدید اور ترویج و اقامت کے سب مراحل پر محیط ہے۔ منہاج القرآن یوتھ لیگ معروف معنوں میں ایک غیر سیاسی تنظیم ہے جس میں سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے نوجوان بھی معاشرے کے دیگر افراد کی طرح بلاتامل شامل ہو کر اپنی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔

سرگرمیاں

منہاج القرآن یوتھ لیگ کی سرگرمیاں درج ذیل جہات پر مشتمل ہیں۔

دعوت: منہاج القرآن یوتھ لیگ کے پلیٹ فارم سے لاکھوں افراد تک مشن کا پیغام پہنچایا گیا ہے۔ یوتھ لیگ کی دعوت کے دو مقاصد ہیں۔

  • اصلاح معاشرہ کیلئے عوامی شعور کی بیداری
  • نوجوانوں کی سیرت و کردار کی تشکیل کر کے موجودہ منافقانہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کا خاتمہ اور قوم میں دینی غیرت و حمیت کو پختہ کرنا۔

تربیت: یوتھ لیگ ہر سال تنظیمی و تربیتی پلان کا اجراء کرتی ہے۔

  • MYL نوجوانوں کی کردار سازی کےلئے ذکر و فکر کا اہتمام کرتی ہے۔ اس کےلئے کئی مقامات پر اجتماعات اور کیمپس بھی لگائے جاتے ہیں۔
  • منہاج القرآن یوتھ لیگ ہر ممکن سطح پر منتخب آڈیو، ویڈیو کیسٹس، سی ڈیز اور کتب پر مشتمل لائبریریز قائم کرتی ہے۔

3۔ دورہ جات: MYL کے قائدین مختلف اوقات میں ملک بھر کے دورہ جات کرتے ہیں جس کا باقاعدہ شیڈول فیلڈ میں بھیجا جاتا ہے۔

قائد ڈے: MYL قائد انقلاب کی سالگرہ پر تقاریب کا اہتمام کرتی ہے۔

5۔ MYL ملک بھر میں مختلف میڈیکل کیمپ مثلاً فری آئی کیمپ ہیپا ٹائٹس سے تحفظ کا انعقاد کرتی ہے۔

6۔ MYL عید میلاد النبی کی خوشی میں ملک بھر میں مشعل بردار جلوسوں کا اہتمام کرتی ہے۔

منہاج القرآن یوتھ لیگ نے اہم ایشوز پر بڑی بڑی ریلیاں منعقد کی ہیں۔

عوامی تعلیمی منصوبہ جات

عوامی تعلیمی منصوبہ جات کےلئے منہاج القرآن یوتھ لیگ سے رضا کاروں نے اپنی خدمات پیش کیں اور یہی عوامی تعلیمی منصوبہ جات بعد ازاں منہاج پبلک سکول میں تبدیل ہوئے۔

تحریک کے اہداف اور پروگرامز میں شمولیت

منہاج القرآن یوتھ لیگ کے ہر قسم کے اہداف اور پروگراموں میں یوتھ لیگ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ نوجوان جو بھوک، نفرت اور خوف کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہا تھا جو منزل پر پہنچ کر بھی منزل سے دور تھا اسے راہ انقلاب میں مینارہ نور سے آشنا کرانے کا سہرا تحریک منہاج القرآن کے سر ہے۔

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ

ملک کی ترقی میں طلباء بنیادی کردار ادا کرتے ہیں انہیں تشدد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے اور ان کے جذبات کو مثبت راہیں فراہم کرنے کےلئے مصطفوی سٹوڈنٹس (MSM) کے نام سے طلباء تنظیم مصروف عمل ہے جو طلباء کی فلاح و بہبود محفوظ اور روشن مستقبل کےلئے ملک گیر سطح پر یونیورسٹیز، کالجز، اسکولوں اور دینی مدارس میں سرگرم عمل ہے۔ ملک سے جہالت کے خاتمے اور علم کا نور عام کرنے، منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی، بے راہ روی، فحاشی، عریانی اور مغربی تہذیب و ثقافت کے فروغ پذیر رجحانات کو ختم کرنے اور طلباء کی توجہ تشددانہ طلبہ سیاست سے ہٹا کر تعلیمی، ملی اور قومی مقاصد کی جانب مبذول کرانا، موومنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ 6 اکتوبر 1994ء میں قائم ہوئی۔ موومنٹ علمی، فکری، تعمیری اور طلباء کی فلاح میں مصروف عمل اپنی کارکردگی کو منظر عام پر لانے کےلئے ماہنامہ دی وائس آف سٹوڈنٹس شائع کرتی ہے۔

قیام کا مقصد

  1. طلباء کو اللہ رب العزت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت کی ایسی تعلیم دینا جو انہیں مصطفوی کردار کا حامل اور انقلاب آشنا کر دے۔
  2. طلباء میں تزکیہ نفس، تصفیہ باطن، ذوق عبادت و تقویٰ کے فروغ اور وحدت کردار کےلئے جدوجہد کرنا۔
  3. طلباء کی انقلابی تربیت کے ذریعے ایک تعلیم یافتہ، باشعور، محب وطن اور غیور قوم کی تعمیر کرنا۔
  4. قوم کی شرح خواندگی میں غیر معمولی اضافے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کےلئے نہ صرف عملی جدوجہد کرنا بلکہ اس مقصد عظیم میں مصروف مخلص قوتوں کی بھرپور تائید و معاونت کرنا تاکہ ملک میں تعلیمی اور سماجی انقلاب کی راہ ہموار کی جا سکے۔
  5. طلباء کی توجہ روایتی طلباء سیاست سے ہٹا کر تعلیمی، قومی اور ملی مقاصد کی جانب مبذول کروانا۔
  6. طلباء میں موجود نسلی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور لسانی کدورتوں کو اسلام کی محبت کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرنا۔
  7. طلباء میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر کے مثبت اور تعمیری کاموں کےلئے استعمال کرنا۔
  8. طلباء کے عمومی مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کےلئے عملی جدوجہد کرنا۔
  9. طلباء کے حقوق کی پاسداری اور ان کا حل پیش کرنا۔

تنظیمی ڈھانچہ

طلباء کی صلاحیتوں، سرگرمیوں، کاوشوں اور ان کی کارگزاریوں کو مربوط و منظم اور مجتمع کرنے اور انہیں تحریک کے مجموعی اہداف و مقاصد سے ہم آہنگ بنانے کےلئے ایم ایس ایم کا تنظیمی ڈھانچہ اس طرح ہے۔

  1. صدر
  2. سینئر نائب صدر
  3. نائب صدر
  4. سیکرٹری
  5. سیکرٹری کالج
  6. سیکرٹری یونیورسٹی

مشترک عہدے

دعوت، تربیت، فنانس، ایم ایس ایم اور ایم وائی ایل آفس سیکرٹری مشترکہ ہوں گے۔

سابقہ صدور

طلباء نے ہر قوم کو زوال سے عروج اور عروج سے اوج ثریا کی طرف لے جانے میں سب سے اہم اور ناقابل تردید کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے موجودہ دور میں امت مسلمہ کو بالعموم اور پاکستانی قوم کو بالخصوص طلباء کی ایک ایسی منظم تحریک کی ضرورت ہے جو امت کو تعلیم یافتہ، باشعور اور انقلابی قیادت فراہم کرے۔ ایم ایس ایم اپنے اس فریضے کو نبھا رہی ہے مختلف ادوار میں اس کی قیادت ان حضرات نے کی۔

  1. محمد حنیف مصطفوی
  2. تنویر احمد خان
  3. ہارون بخاری
  4. داؤد درانی
  5. اشتیاق چودھری
  6. شاہ احمد جماعتی
  7. محمد لطیف سندھو
  8. محمد حسین شاہین

ممبر شپ یوتھ ونگ

سال یوتھ اراکین ایم ایس ایم اراکین ٹوٹل ممبر شپ
1988 5556 0 5556
1989 10258 0 10258
1990 20134 0 20134
1991 26475 0 26475
1992 33654 0 33654
1993 40210 0 40210
1994 46875 0 46875
1995 52698 1515 54213
1996 63127 2530 65657
1997 62175 3225 65400
1998 66254 4650 70904
1999 70184 5810 75994
2000 72135 7240 79375
2001 75698 8452 84150
2002 77258 9668 86926
2003 78152 10240 88392
2004 79552 10760 90312
2005 80769 11360 92129

ایم ایس ایم کی دیگر مرکزی قیادتیں

ایم ایس ایم کے مرکزی صدور کے علاوہ درج ذیل طلباءراہنماؤں نے قابل تحسین خدمات سرانجام دیں۔

  1. ملک سعید عالم
  2. عبیداللہ نوشاہی
  3. ڈاکٹر محمد احسن ہاشمی
  4. امتیاز چودھری
  5. ناظر خانUET
  6. محمد خالد سندھو
  7. ملک محمد افضل شاہین
  8. ملک باسط
  9. مرزا ایوب بیگ
  10. اسحاق حارث
  11. محمد اعجاز انجم
  12. حافظ محمد نورالامین
  13. میاں اسد عمر
  14. رانا لطیف
  15. ڈاکٹر وسیم احمد
  16. راشد محمود باجوہ
  17. سمیع الظفرنوشاہی
  18. عمران قریشی
  19. آصف سلہریا
  20. وسیم افضل
  21. ندیم نقشبندی
  22. اطہر صابری
  23. سلیم اخترUET
  24. اقبال یوسف وہاڑی
  25. سلطان قادر
  26. ندیم بابر
  27. شمس الرحمن آسی
  28. ابرارحسین رضا
  29. رانا لطیف
  30. رائے سرفراز
  31. اسلم طاہر

تنظیمی سطحیں

مرکز۔۔۔ صوبہ۔۔۔ ڈویژن۔۔۔ ضلع (یونیورسٹی کی تنظیم ضلع کے برابر ہوگی) تحصیل۔۔۔ (کالج کی تنظیم تحصیل کے برابر ہوگی) یونٹ۔۔۔ (سکول کی تنظیم یونٹ کے برابر ہوگی)

دعوت و تربیت کا انتظام

موجودہ دور ابتداء و آزمائش میں ایک مسلمان کےلئے سب سے اہم اور مشکل کام اپنے ایمان کا تحفظ، اس کی تقویت اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں اسلامی نظام حیات کا عملی نفاذ ہے۔ اس آزمائش کا سب سے زیادہ شکار نوجوان طبقہ ہوتا ہے۔ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے پلیٹ فارم پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق طلباء کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے تاکہ مسلم نوجوانوں میں عصری مسائل کے اسلامی حل کےلئے تخلیقی اور اجتہادی صلاحیت پیدا کی جائے۔

سرگرمیاں

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے طلباء کی صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے اور طلباء کو عالمگیر غلبہ اسلام کی بحالی کےلئے قرآن و سنت کی عظیم فکر پر مبنی مصطفوی انقلاب بپا کرنے کےلئے متحدو منظم کرتی ہے۔ ایم ایس ایم طلباء میں علمی و ادبی تحریری و تقریری، تخلیقی و تحقیقی، جسمانی و تفریحی اور سماجی بہبود کے مثبت رجحانات کو پروان چڑھا رہی ہے اور طلباء میں تشددانہ سوچ اور تعلیمی اداروں میں موجود منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے تعلیمی امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان مقاصد کے حصول کےلئے ایم ایس ایم نے سٹوڈنٹس کی مختلف کونسلز بنا کر مصطفوی جدوجہد کر رہی ہے۔ سٹوڈنٹس کونسلز کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. ایم ایس ایم سٹوڈنٹس گائیڈنس کونسل
  2. ایم ایس ایم کلچرل کونسل
  3. ایم ایس ایم ویلفیئر کونسل
  4. ایم ایس ایم سپورٹس کونسل
  5. ایم ایس ایم دعوت و تربیت کونسل
  6. ایم ایس ایم ایجوکیشن ریسرچ کونسل
  7. ایم ایس ایم اسلامک ریسرچ کونسل
  8. ایم ایس ایم سوشل ویلفیئر کونسل

درج بالا کونسلز کے زیر اہتمام موومنٹ نے متعد مثبت سرگرمیوں کے ذریعے طلباء کی معاشرتی، اخلاقی اور روحانی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا ۔

متحدہ طلبہ محاذ

  • مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ نے پاکستان کی تمام طلباء تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر متحدہ طلباء محاذ قائم کیا جس کے پہلے سیکرٹری جنرل تنویر احمد خان منتخب ہوئے پھر لطیف سندھو نے متحدہ طلباء محاذ کی قیادت کی۔ تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر اس کے اجلاس اکثر ہوتے رہتے ہیں۔
  • ایک فرد ایک کتاب مہم
  • وائس آف سٹوڈنٹس(طلباء کا نمائندہ شمارہ)
  • ماحولیاتی آلودگی کے خلاف مہم 96ء
  • ماہنامہ مصطفوی
  • امن ٹرین مارچ 98ء
  • یوتھ مارچ
  • امن کانفرنس97ء (UET)
  • اسلام کا تصور علم (قائد اعظم یونیورسٹی)
  • ٹریننگ کیمپس(مری، شاہراہ قراقرم)
  • کشمیرکانفرنس
  • شہادت امام حسین کانفرنس
  • کشمیر کانفرنس
  • شہادت امام حسین کانفرنس جیسے اہم اور تاریخی کارنامے MSM کے پلیٹ فارم سے انجام پذیر ہوئے۔

موجودہ تنظیمی ڈھانچہ

25 مئی 2005ء کو منہاج القرآن یوتھ لیگ اور مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کا انفرادی تشخص برقرار رکھتے ہوئے ان کے باہمی اشتراک پر مشتمل نظامت یوتھ قائم کی گئی، جس کے تحت کام کرنے کا طریقہ اور سٹرکچر یہ طے پایا۔

  1. طلباء میں MSM اور غیر طلباء میں MYL کے نام سے کام ہو رہا ہے۔
  2. تعلیمی اداروں میں MSM کے نام سے باڈیز قائم کی گئی ہیں۔
  3. مرکز سے تحصیل تک تنظیمی سٹرکچر ایک ہی طرح کا ہے جس کا تحریک کے اندر نام نظامت یوتھ ہے۔ اس کا سربراہ ناظم یوتھ ہے اور وہ اپنی سطح پر تحریک کی ایگزیکٹو کا ممبر ہے۔ اس باڈی کے جملہ تنظیمی و انتظامی امور مشترکہ ہی ہیں نیز مشاورت، فیصلہ سازی اور اجلاس بھی اکٹھے ہوتے ہیں۔
  4. ہر سطح پر یوتھ اور MSM کے صدور تحریک کی ایگزیکٹو کے ممبر ہیں۔
  5. نچلے لیول میں بعض عہدے MSM کے نام سے اور بعض عہدے MYL کے نام سے ہیں۔

تبصرہ

تلاش کریں

تازە ترین

مشہور خبریں