نیکی پر استقامت کا رویہ ہی فرد کو معاشرے کی اصلاح کے قابل بناتا ہے، صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی

باطن کو نور سے بھرنے کی جدوجہد جاری رہنا چاہیے
صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی کامرکزی سیکرٹریٹ میں ’’درس عرفان القرآن ‘‘ کے بڑے اجتماع سے خطاب

تحریک منہاج القرآن کے مرکزی نائب ناظم دعوت و تربیت صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی نے کہا ہے کہ معاشرے میں شکر کا فقدان ہے، اخلاقی اقدار کو معاشرے سے رخصت کر دیا گیا ہے اور معاشرے کی اکثریت مادیت کا طوق گلے میں ڈال کر دنیا کمانے میں مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ فرائض کی ادائیگی میں کبھی غفلت کا ارتکاب نہ کرے کیونکہ غفلت سے معاشرے میں غیر متوازن رویے جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باطن کو نور سے بھرنے کی جدوجہد جاری رہنا چاہیے۔ وہ مرکزی سیکرٹریٹ میں ’’درس عرفان القرآن ‘‘ کے بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ظلمت میں رہنے والے کو علم لدنی نہیں ملتا، سینے کا اللہ کی ہدایت کیلئے کھل جانا بہت بڑی عظمت ہے۔ اچھے عمل اور نیکی پر استقامت کا رویہ ہی فرد کو معاشرے کی اصلاح کے قابل بناتا ہے۔ باطنی تذکیہ کا عمل ہی انسان کو بندگی کی حقیقت سمجھاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایسی محافل اور اجتماعات میں شرکت کی جائے جہاں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ مگر افسوس آج معاشرے میں اس کا ادراک اور تڑپ نہیں ہے لوگ دنیا کے حصول کو ہی اپنی منزل بنا بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیک اعمال پر استقامت سے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ غیر ارادی طور پر نیکیاں ہونے لگتی ہیں۔ نیک اعمال کرنے میں طبیعت مائل رہے اور شوق نیکی قائم رہے تو سمجھ لیں کہ اللہ آپ سے خوش ہے اور جس نے اللہ کو خوش کر لیا وہ دنیا کا خوش قسمت بندہ ہے، مگر اللہ کی خوشی نیکی پر استقامت کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔

تبصرہ