وفاقی و صوبائی حکومتیں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر پا رہیں۔ خرم نواز گنڈا پور

علماء مل بیٹھیں اور ملکی حالات بہتر کرنے کیلئے تجاویز دیں
علمائے کرام اختلافات پر بحث کی بجائے اتفاق و اتحاداور یگانگت کے فائدوں پر غور کریں
کراچی میں امن و امان کی صورتحال بے حد تشویشناک ہے

پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ ملک بھر میں اور خصوصاً کراچی میں امن و امان کی صورتحال بے حد تشویشناک ہے۔ آئے روز معصوم اور بے گنا ہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ قاتل گرفتار ہوتے ہیں اور نہ ذمہ داران کو سزا دی جاتی ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری بخوبی ادا نہیں کر پا رہیں۔ انسانی جانوں کو بے وقعت کرنے والوں کو نہ تو کوئی پکڑتا ہے اور نہ کوئی پوچھتا ہے۔ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ علمائے دین کے قتل کے واقعات کو محض فرقہ ورانہ فسادات کا تسلسل قرار دے کر حکومت اپنی ذمہ اریوں سے عہدہ برآں نہیں ہو سکتی۔ وہ گذشتہ روز مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک علماء ونگ کے وفد سے گفتگو کررہے تھے جبکہ اس موقع پر علامہ سید فرحت حسین شاہ، علامہ محمد حسین آزاد، علامہ میر آصف اکبر، علامہ ممتاز صدیقی، علامہ عثمان سیالوی، علامہ غلام اصغر صدیقی اور حافظ غلام فرید بھی موجود تھے۔

خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی، سیاسی، سماجی رہنماؤں کے قتل کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہونے والے دیگر معصوم شہریوں کے قاتلوں تک بھی پہنچا جائے اورانہیں کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت سے سخت ترین سزا دی جائے تا کہ یہ تمام شرپسندوں کیلئے باعث عبرت ہو۔ انہوں نے علماء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اور دیگر شہروں میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کی روک تھام کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ علمائے کرام بھی توجہ دیں۔ تمام فرقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ علمائے کرام لوگوں کے درمیان اختلافات کے پہلوؤں پر بحث کی بجائے اتفاق و اتحاداور یگانگت کے فائدوں پر غور کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء مل بیٹھیں اور ملکی حالات کو بہتر کرنے کیلئے تجاویز دیں تا کہ ملکی تعمیر و ترقی کیلئے مل کر آگے بڑھنے کے راستے تلاش کئے جا سکیں۔

تبصرہ