انتخابی وعدے کرنیوالے دوماہ میں بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ ملک میں موجود بحرانوں کیخلاف اقدامات کا آغاز کہاں سے کریں، ڈاکٹر طاہرالقادری

آکسفورڈ (آفتاب بیگ: نمائندہ جنگ) پاکستان میں امن و امان کے قیام کے لیے دفاعی اور سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر جامع پالیسی بنانا ہو گی ان خیالات کا اظہار منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سرپرست اعلی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ہیتھرو ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا برمنگھم میں مرکزی جماعت اہلسنت برطانیہ و یورپ کے زیراہتمام ہونے والی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے وہ پیر کی صبح ہی برطانیہ پہنچے تھے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں اور مسلمانوں کے ایمان کا یہ حصہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے اور اللہ کے اس حتمی فیصلہ کو جو بھی چیلنج کرے گا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

پاکستان کی سیاست کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ نام نہاد جمہوری انتخابی نظام سے نہ صرف عوام کا بلکہ سیاسی قیادت کا اعتماد اور یقین ختم ہو چکا ہے، تبدیلی کے دعویداروں کی اپنی سوچ اور عمل ہی تبدیل ہو چکا ہے۔ کل کے انتخابی وعدے کرنے والے آج دو ماہ گذر جانے کے باوجود یہی فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ پاکستان کی سیاسی، سماجی، معاشی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا آغاز کہاں سے کریں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ انتخابات سے قبل انہوں نے جن خطرات کی نشاندہی کی تھی آج وہ ایک ایک لفظ نہ صرف سچ ثابت ہو چکا ہے بلکہ مختلف سوچ کے حامل سیاسی راہنماء خود اپنی زبانوں سے ان پر تصدیق کی مہر ثبت کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ موجودہ حکومت اگر دو سال بھی مکمل کر پائی تو ایک معجزہ ہو گا کیوں کہ موجودہ برسر اقتدار طبقے کا مسائل کے حل کی حکمت عملی، سوچ، قابلیت اور بصیرت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے

تبصرہ