عدالتوں سے سزا پانے والے دہشت گردوں کو پھانسیاں دے کر وزیر اعظم کو پریس بریفنگ دینی چاہیے تھی‎: ڈاکٹر طاہرالقادری

دہشت گردی کی آگ میں جلنے والی قوم کو کمیٹی کے سپرد کرنا شرمناک ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری
پالیسی بنانا دور کی بات یہ ڈرپوک قیادت دو ٹوک انداز میں دہشت گردوں کی مذمت بھی نہ کر سکی‎
پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کی قرارداد سے ثابت ہو گیا کہ حکومت کے پاس دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی پلان ہے نہ ویثرن
آپریشن ضرب عضب میں 9 ماہ تاخیر کا سبب بننے والے وزیراعظم اور ماضی میں مذاکرات کی حامی جماعتیں قوم سے معافی مانگیں

لاہور (17 دسمبر 2014) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کی قرارداد سے ثابت ہو گیا کہ حکومت کے پاس دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی پلان ہے اور نہ ہی کوئی ویثرن، اجلاس میں شریک یہی قیادت دہشت گردوں سے مذاکرات کی حامی اور آپریشن ضرب عضب کو9ماہ موخر تک کروانے اور ہزاروں بے گناہ شہادتوں کی ذمہ دار ہے۔ پالیسی بنانا دور کی بات اجلاس میں شریک کسی رہنماء کو سخت الفاظ میں دہشت گردوں کی مذمت کرنے کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔ کل ہی کہہ دیا تھا کہ یہ لوگ دہشت گردی کے خلاف ہمارے دو ٹوک موقف پر ہمیں نہیں بلائیں گے، انہوں نے مشاورت کے نام پر قوم سے مذاق کیا ہے، ہم نے دو ٹوک بات کرنی تھی جو انہیں پسند نہیں آنی تھی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم دہشت گردوں کو پھانسیاں دے کر پریس بریفنگ دیتے اور سانحہ پشاور کے گھائل خاندانوں کے زخموں پر مرحم رکھتے تو قوم کو خوشی ہوتی، مگربزدل قیادت نے پوری قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے، یہ اقتدار کے حریص انسانیت کے دشمنوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتے۔ 2008 میں کہہ دیا تھا اچھے برے طالبان کی تمیز ختم کی جائے اور دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ سمجھا جائے۔ موجودہ نام نہاد سیاسی قیادت نے اس نتیجے پر پہنچنے میں بھی 6 سال لگادئیے۔ ان کے پاس کوئی پلان ہوتا تو دہشت گردی کی آگ میں جلنے والی قوم کو کمیٹی کے سپرد نہ کرتے کیا آج تک کسی کمیٹی نے کوئی فیصلہ کیا ہے؟ نام نہاد اتحادی لیڈر شپ نے قوم کو سخت مایوس کیا۔ صحت اجازت دیتی تو اس وقت پشاور میں زخمی بچوں کے ساتھ ہوتا، سربراہ عوامی تحریک نے سانحہ پشاور کے مزید 3 زخمیوں کی شہادت پر گہرے غم کا اظہار کیا اور کہا یہ خون اب رائیگاں نہیں جائیگا۔

ڈاکٹر قادری نے گزشتہ روز ہیوسٹن سے مرکزی میڈیا سیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کو دہشتگردوں کی مالی، اخلاقی، سیاسی مدد کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کر کے اٹھنا چاہیے تھا۔ اب قوم کو ایوانوں کے اندر اور ایوانوں سے باہر بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کیلئے کمر بستہ ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جان کر دکھ ہوا کہ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد دہشتگردی کی جنگ لڑنے والے اداروں اور فورسز کا بجٹ کم کر دیا گیا؟ایوان وزیراعظم کا بجٹ دہشتگردی کے بجٹ سے 7 گنا زیادہ ہو گا تو دہشتگردی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگست کے مہینے میں پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا اس اجلاس میں شریک تمام پارلیمانی جماعتیں دہشتگردی کے مسئلے کو زیر بحث لاتیں تو ہم مزید لاشیں اٹھانے سے بچ جاتے، انہوں نے کہا کہ 10سال میں 50 ہزار شہادتوں کے بعد بھی غور کیلئے کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں اس سے زیادہ شرمناک رویہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہ بے حمیت حکمران شہیدوں کے خون کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس نا اہل قیادت نے ریاست پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں، ان کے بچے سانحہ کا شکار ہوتے تو انکے چہروں پر مسکراہٹیں نہ ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ خطرناک مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کے فیصلے کرنے والے بتائیں کیا وہ بچوں کی شہادتوں کا انتظار کر رہے تھے؟ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ سینکڑوں دہشت گرد جن کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے انکی پھانسی پر عملدرآمد کس نے رکوایا اور اس کے کیا فوائد حاصل ہوئے؟ سربراہ عوامی تحریک نے سانحہ پشاور کے شہدا کے سوگ میں تمام تنظیموں کو تین دن تک قرآن خوانی کی ہدایت کی، گزشتہ روز منہاج القرآن یونیورسٹی، ویمن کالج اور تمام سکول شہدائے پشاور کے سوگ میں بند رہے، جامع مسجد منہاج القرآن میں قرآن خوانی کی گئی اور شعبہ خواتین کی طرف سے لبرٹی چوک لاہور کے ساتھ پشاور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں شمعیں روشن کی گئیں اور شہداء کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔

تبصرہ