پنجاب کے 16 سرکاری محکموں کی کرپشن پر عوامی تحریک کے مرکزی میڈیا سیل کا وائٹ پیپرجاری

5 ہزار ملین روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب، 14ارب کی زائد ادائیگیاں
آڈیٹر جنرل کی 14ء کی رپورٹ نے پنجاب حکومت کی بیڈگورننس اور کرپشن پر تصدیق کی مہر لگا دی
آغا وقار نے پانی سے کار چلا کر ایک بار جبکہ شہباز حکومت نے بار بار عوام کو بے وقوف بنایا
ایل ڈی اے سٹی کیلئے بندوق کے زور پر مالکان سے 3 ہزار مرلہ کے حساب سے زمین چھینی جارہی ہے
ایل ڈی اے سٹی فراڈ اور چنیوٹ ذخائر پر حقائق نامہ جاری کرنے کا اعلان

لاہور (2 مارچ 2015) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی میڈیا سیل نے پنجاب میں سرکاری محکموں کی حد سے متجاوز کرپشن اور بے ضابطگیوں پر وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی 2014 ء کی رپورٹ میں پنجاب کے سرکاری محکموں کی کرپشن اور لاقانونیت میں اضافہ کی تصدیق اور بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جو 444 صفحات پر مشتمل ہے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کے 16 سرکاری محکموں نے 195 ملین کے ایسے اخراجات کیے جن کا انہیں سرے سے کوئی اختیار نہیں تھا اور نہ ہی ان اخراجات کی ضرورت تھی، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اخراجات چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں، آڈیٹر جنرل پاکستان کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 16 محکمے 5349 ملین روپے کے اخراجات کا آڈیٹر جنرل پاکستان کو ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے۔

پنجاب حکومت کی فنانشل مس مینجمنٹ پر حقائق نامہ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق عباسی، مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور کی سرپرستی میں تیار کیا گیا، عوامی تحریک کے رہنماؤں نے پنجاب میں لاقانونیت، فنانشل مس مینجمنٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی سے کار چلانے والے آغا وقار نے قوم کو ایک بار جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بار بار صوبہ کے عوام کو بے وقوف بنایا، بے وقوف بنانے کا تازہ ترین واقعہ چنیوٹ ذخائر کی دریافت کا اعلان ہے، اس حوالے سے دستاویزی حقائق پر مبنی معلومات چند روز میں قوم کے سامنے لائی جائینگی۔

مرکزی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 7سال سے جاری ’’ون میں شو‘‘ کی وجہ سے پنجاب کا ہر محکمہ برباد ہو چکا ہے، اس تباہی کی تصدیق اب سرکاری دستاویز سے ہورہی ہے، وائٹ پیپر میں بتایا گیا ہے کہ 27 فروری کو اینٹی کرپشن پنجاب نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مالی کرپشن میں پولیس نمبر ون اور تعلیم کا محکمہ نمبر 2 پر ہے اور ان دونوں محکموں کو وزیراعلیٰ پنجاب اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر سرفہرست بتاتے ہیں، عوامی تحریک کے وائٹ پیپر میں پنجاب کے سرکاری محکموں کی فنانشل مس مینجمنٹ اور کرپشن کے متعلق بتایا گیاہے کہ پنجاب حکومت کو علم ہی نہیں کہ اس نے ملکی و غیر ملکی کتنے قرضے لیے اور کتنی ادائیگی کی اور کتنے قرضے اور سود کی ادائیگی بقایا ہے؟۔

وائٹ پیپر میں آڈیٹر جنرل پاکستان کی 2014 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کے ’’مدہوش‘‘ سیاسی ایکسپرٹس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ نے مالی سال 2014 میں لیے گئے قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی کی مد میں 14 ہزار ملین کی زائد ادائیگیاں کر دیں، پنجاب حکومت کے اکاؤنٹ اور بینکوں کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے کا فرق ہے، پنجاب کی تاریخ کی اپنی نوعیت کی یہ منفرد بے ضابطگی، کرپشن اور بیڈگورننس ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں پنجاب کے جن محکموں کو کرپشن اور بے ضابطگیوں کا گڑھ قرار دیا گیا ہے ان میں فنانس ڈیپارٹمنٹ، اوقاف، فوڈ، جنگلات، صحت، ہایئر ایجوکیشن، سکول ایجوکیشن، ثقافت، لاء اینڈ پارلیمنٹری افیئرز، لائیو سٹاک، مائنز اینڈ منرلز، پاپولیشن ویلفیئر، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن، سوشل ویلفیئر، ویمن ڈویلپمنٹ اینڈ بیت المال، یوتھ افیئر اینڈ سپورٹس، آثار قدیمہ اور سیاحت کے محکمے شامل ہیں۔

حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ موٹروے، پاور پلانٹس، میٹرو بسوں اور ایل ڈی اے سٹی کے منصوبوں میں کھربوں روپے کی کمیشن پر نظر رکھنے والے حکمرانوں کو سرکاری محکموں کی اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔

عوامی تحریک کے وائٹ پیپر میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت پاکستان کی سب سے بڑی قبضہ گروپ بن چکی ہے، پنجاب حکومت لاہور کے 7 مضافات میں ایل ڈی اے سٹی منصوبہ کے نام پر 60 ہزار کنال اراضی مالکان سے 3 ہزار روپے فی مرلہ کے حساب سے خرید کر اسے 3 لاکھ روپے مرلہ بیچنے کا منصوبہ بنا چکی ہے، اراضی کے مالکان سے زمینیں خریدنے کیلئے حکومتی سرپرستی میں سرکاری اور غیر سرکاری غنڈے 7 مواضعات میں دندناتے پھررہے ہیں اور زمین بیچنے سے انکار کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اس حوالے سے پاکستان عوامی تحریک حقائق جمع کررہی ہے، بہت جلد اس حوالے سے پریس کانفرنس میں ہوشربا انکشافات قوم کے سامنے لائے جائینگے۔

تبصرہ