شبِ برأت اور اسلاف کے معمولات و آراء

حافظ ظہیر احمد الاسنادی

شعبان المعظم کی پندرھویں رات شبِ برأت کے نام سے موسوم ہے۔ یہ انتہائی فضیلت و بزرگی والی رات ہے۔ اس رات کے متعلق درج ذیل دس جلیل القدر صحابۂ کرام سے روایات مروی ہیں:

  1. حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
  2. حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ
  3. حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
  4. حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
  5. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
  6. حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ
  7. حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
  8. حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ
  9. حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ
  10. حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ

شبِ برأت کے حوالے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال اور ان کے معمولات کا جائزہ درج ذیل سطور میں بیان کیا جارہا ہے:

1. حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان

یُعْجِبُنِي أَنْ یُفَرِّغَ الرَّجُلُ نَفْسَهٗ فِي أَرْبَعِ لَیَالٍ: لَیْلَةُ الْفِطْرِ، وَلَیْلَةُ الأَضْحٰی، وَلَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَأَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ.

’مجھے یہ بات پسند ہے کہ ان چار راتوں میں آدمی خود کو (تمام دنیاوی مصروفیات سے عبادت الٰہی کے لیے) فارغ رکھے۔ (وہ چار راتیں یہ ہیں:) عید الفطر کی رات، عید الاضحی کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور رجب کی پہلی رات۔‘

(ابن جوزی، التبصرة، 2/21)

2۔ حضرت اِمام حسن علیہ السلام کا عمل مبارک

حضرت طاؤس یمانی فرماتے ہیں کہ میں نے امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پندرہ شعبان کی رات اور اس میں عمل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا:

’’میں اس رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں:

  • یک حصے میں اپنے نانا جان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود شریف پڑھتا ہوں۔
  • دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کرتا ہوں۔
  • تیسرے حصے میں نماز پڑھتا ہوں۔

میں نے عرض کیا: جو شخص یہ عمل کرے اس کے لیے کیا ثواب ہوگا۔ آپ نے فرمایا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’اسے مقربین لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘

(سخاوی، القول البدیع، باب الصلاة علیه صلی الله علیه وآله وسلم فی شعبان: 207)

3۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان

خَمْسُ لَیَالٍ لَا یُرَدُّ فِیهِنَّ الدُّعَاءُ: لَیْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَیْلَةُ الْعِیْدِ وَلَیْلَةُ النَّحْرِ.

’پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں ہوتی: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات۔‘

(بیهقی، شعب الایمان، 3: 342، رقم: 3713)

4۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان:

ایک آدمی لوگوں کے درمیان چل رہا ہوتا ہے، حالانکہ وہ مُردوں میں اٹھایا ہوا ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:

اِنَّـآ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَo فِیْهَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍo

’بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتاہے۔‘

الدخان، 44: 3-4

پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

اس رات میں ایک سال سے دوسرے سال تک دنیا کے معاملات کی تقسیم کی جاتی ہے۔

طبری، جامع البیان، 25: 109

5۔ حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کا فرمان

أَرْبَعٌ لَیَالِیْهِنَّ کَأَیَّامِهِنَّ وَأَیَّامُهُنَّ کَلَیَالِیْهِنَّ، یُبِرُّ ﷲُ فِیْهِنَّ الْقَسَمَ، وَیُعْتِقُ فِیْهِنَّ النَّسَمَ، وَیُعْطِي فِیْهِنَّ الْجَزِیْلَ، لَیْلَةُ الْقَدْرِ وَصَبَاحُهَا، وَلَیْلَةُ عَرَفَة وَصَبَاحُهَا، وَلَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَصَبَاحُهَا، وَلَیْلَةُ الْجُمْعَةِ وَصَبَاحُهَا.

’چار دن ایسے ہیں کہ ان کی راتیں (فضیلت میں) ان کے دنوں کی طرح ہیں اور ان کے دن (فضیلت میں) ان کی راتوں کی طرح ہیں۔ ان میں ﷲ تعالیٰ (اپنے بندوں کی) قسم کو پورا کر دیتا ہے اور ان میں لوگوں کو (جہنم سے) آزاد فرما دیتا ہے اور ان میں بہت زیادہ اجر و ثواب عطا فرماتا ہے (وہ راتیں اور دن یہ ہیں): شبِ قدر اور اس کا دن، شب عرفہ اور اس کا دن،شبِ برأت اور اس کا دن اور جمعہ کی رات اور جمعہ کا دن ہے۔‘

هندی، کنزل العمال، 12: 144، رقم: 35214

تابعین اور آئمہ کرام کے معمولات و آراء

صحابہ کرام کے علاوہ تابعین، تبع تابعین ائمہ کرام اور امت مسلمہ کے اکابرین کا ہمیشہ سے اس رات میں شب بیداری کا معمول رہا ہے۔ ذیل میں چند ائمہ کرام کے معمولات و آراء ذکر کئے جارہے ہیں:

1۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا فرمان

امام ابن رجب حنبلی، امام عسقلانی اور ابن الجوزی بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ بصرہ میں اپنے عمال (گورنروں) کو لکھتے تھے:

عَلَیْکَ بَأَرْبَعِ لَیَالٍ مِنَ السَّنَةِ فَإِنَّ ﷲَ یُفَرِّغُ فِیْهِنَّ الرَّحْمَةَ إِفْرَاغًا: أَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَیْلَةُ الْفِطْرِ، وَلَیْلَةُ الأَضْحٰی.

’تم پر لازم ہے کہ سال میں (شب قدر کے علاوہ) چار راتوں کو اہتمام کے ساتھ منایا کرو۔ یقینا ان راتوں میں ﷲ تعالیٰ کی رحمت وافر مقدار میں عطا ہوتی ہے۔ رجب کی پہلی رات نصف شعبان کی رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات۔‘

ابن رجب حنبلی، لطائف المعارف: 137

2۔ امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ (م204ھ)

وَبَلَغَنَا أَنَّهٗ کَانَ یُقَالُ إِنَّ الدُّعَاءَ یُسْتَجَابُ فِي خَمْسِ لَیَالٍ: فِي لَیْلَةِ الْجُمُعَةِ، وَلَیْلَةِ الْأَضْحٰی، وَلَیْلَةِ الْفِطْرِ، وَأَوَّلِ لَیْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ.

’ہمیں یہ خبر ملی کہ کہا جاتا تھا : بے شک دعا پانچ راتوں میں قبول ہوتی ہے: جمعہ کی رات، عید الاضحی کی رات، عید الفطر کی رات، ماهِ رجب کی پہلی رات اور ماهِ شعبان کی پندرہویں رات۔‘

بیهقی، شعب الایمان، 3: 341، رقم: 3711

3۔ ابن کُردُوس بیان کرتے ہیں:

مَنْ أَحْیٰی لَیْلَةَ الْعِیْدَیْنِ وَلَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ لَمْ یَمُتْ قَلْبُهٗ یَوْمَ تَمُوْتُ الْقُلُوْبُ.

’جس نے دونوں عیدوں (عید الاضحی اور عید الفطر) کی رات اور پندرہ شعبان کی رات کو (عبادت کر کے) زندہ رکھا اس کا دل اُس دم بھی مردہ نہیں ہوگا جس دن (سب کے) دل مردہ ہو جائیں گے۔‘

هندی، کنزالعمال، 8: 251، رقم: 24107

4۔ الشیخ محی الدین عبد القادر الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ (م 561ھ)

سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی نے ’غنیۃ الطالبین‘ میں شب برأت کی فضیلت پر پورا باب قائم کیا ہے اور کثرت کے ساتھ اَحادیث مبارکہ اور ان کے لطائف و معارف بیان فرمائے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

’جس طرح مسلمانوں کے لیے زمین پر دو عیدیں ہیں۔ اسی طرح فرشتوں کی آسمان میں دو عیدیں ہیں۔ فرشتوں کی وہ دو عیدیں شب برأت اور شبِ قدر ہیں اور مومنین کی عیدیں عید الفطر اور عید الاضحی ہیں۔ فرشتوں کی عیدیں رات کو اس لیے ہیں کہ وہ سوتے نہیں اور مومنوں (انسانوں) کی عیدیں دن کو اس لیے ہیں کہ وہ رات کو سوتے ہیں۔‘

5۔ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (م 728ھ)

علامہ ابن تیمیہ - جن کی تعلیمات پر پورے سعودی عرب کے علماء اور ان کے فتاویٰ کا دار و مدار ہے۔ - نے ’مجموع الفتاوی‘ اور ’اقتضاء الصراط المستقیم‘ میں اس رات کی فضیلت و اہمیت کے حوالے سے نہایت تفصیل سے لکھا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ ’اقتضاء الصراط المستقیم‘ میں لکھتے ہیں:

’اس باب میں شعبان کی پندرھویں رات بھی ہے، اس کی فضیلت میں مرفوع احادیث اور کئی آثار روایت کیے گئے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بڑی فضیلت والی رات ہے، بعض علماء سلف اس فضیلت کو اس رات کی نماز کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ ماهِ شعبان کے روزے کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔۔۔‘

آگے جاکر مزید لکھتے ہیں:

’ہمارے مسلک اور دوسرے مسلک کے کثیر یا اکثر اہلِ علم کا اس کی فضیلت پر اتفاق ہے۔ اس بارے میں بہت ساری احادیث وارد ہونے کی وجہ سے امام احمد بن حنبل کی حدیث (اس رات کی فضیلت پر) دلالت کرتی ہے اور ائمہ اسلاف کے آثار سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کے بعض فضائل کتب سنن و مسانید میں روایت کیے گئے ہیں۔‘

ابن تیمیة، اقتضاء الصراط المستقیم، 1: 302

6۔ امام العبدری الفاسی الشہیربابن الحاج مالکی رحمۃ اللہ علیہ ( م 737ھ)

علامہ ابن الحاج مالکی رحمۃ اللہ علیہ شب برأت کے متعلق اَسلاف کا نظریہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

فَهٰذِهِ اللَّیْلَةُ وَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَیْلَةُ الْقَدْرِ فَلَهَا فَضْلٌ عَظِیْمٌ وَخَیْرٌ جَسِیْمٌ وَکَانَ السَّلَفُ یُعَظِّمُوْنَهَا وَیُشَمِّرُوْنَ لَهَا قَبْلَ إِتْیَانِهَا فَمَا تَأْتِیْهِمْ إِلَّا وَهُمْ مُتَأَهَبُوْنُ لِلِقَائِهَا وَالْقِیَامِ بِحُرْمَتِهَا عَلٰی مَا قَدْ عُلِمَ مِنِ احْتِرَامِهِمْ لِلشَّعَائِرِ عَلٰی مَا تَقَدَّمَ ذِکْرُهٗ هٰذَا هُوَ التَّعْظِیْمُ الشَّرْعِيِّ لِهٰذِهِ اللَّیْلَةِ.

’اور یہ (شعبان کی پندرہویں رات) اگرچہ شب قدر کی رات نہیں ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رات بڑی با برکت اور اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی عظمت والی ہے۔ اور (ہمارے) اسلاف اس رات کی بڑی تعظیم کیا کرتے تھے اور اس کے آنے سے پہلے ہی اس کے (اِستقبال کے) لیے تیاری کیا کرتے تھے، جب یہ رات آتی تھی تو وہ اس کی ملاقات اور اس کی حرمت و عظمت بجا لانے کے لیے مستعد ہو جاتے تھے، کیونکہ یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ وہ شعائر اللہ کا بہت احترام کرتے تھے جیسا کہ اس کا ذکر گزر چکا۔ اور وہ اس رات کے لیے تعظیم شرعی تھی۔‘

ابن الحاج المالکی، المدخل، 1: 299

یاد رہے کہ علامہ ابن الحاج المالکی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بیان کوئی معمولی حیثیت نہیں رکھتا، آپ یہ بیان اس کتاب میں دے رہے ہیں جو آپ نے خاص طور پر بدعات کی تردید میں لکھی ہے۔ اس کتاب میں آپ شب برأت کو شعائر ﷲ قرار دیتے ہوئے اس کے متعلق اَسلاف کا نظریہ اور طریقہ ذکر کر رہے ہیں کہ ہمارے اسلاف اس رات کی تعظیم کرتے تھے اور اس کے آنے سے پہلے ہی اس کے استقبال کے لیے تیاری کیا کرتے تھے۔

7۔ امام ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ (م 795ھ)

امام ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ (م 795 ھ) - جو کہ علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں - نے اپنی معروف کتاب ’لطائف المعارف‘ میں ’’اَلْمَجْلِسُ الثَّانِي فِي نِصْفِ شَعْبَانَ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کیا اور اس میں شبِ برأت کی فضیلت پر نہایت تفصیل سے گفتگو کی ہے اور احوالِ سلف کا تذکرہ کیا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں:

’ایک قول یہ ہے کہ اس رات کو مسجد میں شب بیداری کے لیے اجتماع کرنا مستحب عمل ہے۔ چنانچہ حضرت خالد بن معدان، اور لقمان بن عامر وغیرہ تابعین اس رات اعلیٰ لباس زیب تن فرماتے، خوشبو اور سرمہ لگاتے اور اس رات مسجد میں قیام اللیل فرماتے۔ اس پر امام اسحاق بن راہویہ نے ان کی موافقت کی ہے اور کہا ہے کہ اس رات کو مساجد میں قیام کرنا بدعت نہیں ہے۔‘

ابن رجب حنبلی، لطائف المعارف: 137

8۔ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (1440ھ)

امام احمد رضا خان بریلوی ’فتاوی رضویہ‘ میں فرماتے ہیں:

’پندرہ راتوں میں شب بیداری مستحب ہے۔ (آگے چل کر فرمایا:) ان میں ایک شعبان المعظم کی پندرھویں رات ہے۔ اس میں شب بیداری کرنا مستحب ہے۔ اس میں مشائخ کرام سو رکعت ہزار مرتبہ قُلْ هُوَ ﷲُ أَحَدٌ کے ساتھ ادا کرتے، ہر رکعت میں دس دفعہ قُلْ هُوَ ﷲُ أَحَدٌ پڑھتے۔ اس نماز کا نام انہوں نے صلوٰۃ الخیر رکھا تھا، اس کی برکت مسلّمہ تھی، اس رات (یعنی پندرہ شعبان) میں اجتماع کرتے اور احیاناً اس نماز کو با جماعت ادا کرتے تھے۔‘

فتاویٰ رضویه، 7: 418

9۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

شیخ الاسلام شب برأت کی حجیت پر دلائل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’دس کے قریب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مختلف سندوں کے ساتھ درجنوں کتب احادیث میں مختلف مضامین سے شب برأت اور اس کی اہمیت و فضیلت پر یہ احادیث وارد ہوئی ہیں۔ لیکن پھر بھی اس حوالے سے یہ کہنا کہ فلاں حدیث میں ضعف ہے یہ فقط ہٹ دھرمی یا کم علمی ہے۔

جمیع محدثین کے ہاں اُصول حدیث کا متفق علیہ قاعدہ ہے کہ فضائل اَعمال میں حدیثِ ضعیف بھی مقبول ہوتی ہے جبکہ شبِ برأت کے حوالے سے تو کثیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے روایات مروی ہیں۔ لہٰذا یہ تصور ذہن میں نہیں آنا چاہیے کہ کسی ایک روایت اور سند پر کسی ایک نے لکھ دیا کہ اس میں ضعف ہے تو معاذ ﷲ اسے اٹھا کر پھینک دیا جائے۔ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ضعف کسے کہتے ہیں؟ ضعیف حدیث، موضوع روایت کو نہیں کہتے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ضعف کبھی حدیث کے متن و مضمون (الفاظ) میں نہیں ہوتا، بلکہ ضعف اس کی اسناد میں کسی وجہ سے ہوتا ہے اور اگر ایک سبب سے ایک سند میں ضعف ہے اور دوسری سند اس سے قوی آ جائے تو اس پہلی سند کا ضعف بھی ختم ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ صرف اپنی کم علمی کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے رہتے ہیں۔‘

حجیت شب برات، خطاب شیخ الاسلام، (2005/09/12)

خلاصۂ کلام

قارئینِ کرام! شبِ برأت پر کثیر تعداد میں مروی احادیث، تعاملِ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ سلف، فقہاء صرف اس لیے نہیں ہیں کہ کوئی بھی بندہ فقط ان کا مطالعہ کر کے یا بنا مطالعہ کے ہی انہیں قصے، کہانیاں سمجھتے ہوئے ان سے صرفِ نظر کرے بلکہ ان کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے مولا خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے ٹوٹے ہوئے تعلق کو پھر سے اُستوار کرے جو کہ اس رات اور اس جیسی دیگر روحانی راتوں میں عبادت سے باسہولت میسر آ سکتا ہے۔

اِن بابرکت راتوں میں رحمتِ الٰہی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے اور اپنے گناہ گار بندوں کی بخشش و مغفرت کے لیے بے قرار ہوتی ہے، لہٰذا اس رات میں قیام کرنا، کثرت سے تلاوتِ قرآن، ذکر، عبادت اور دعا کرنا مستحب ہے اور یہ اَعمال احادیثِ مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہیں۔ اس لیے جو شخص بھی اس شب کو یا اس میں عبادت کو بدعتِ ضلالۃ کہتا ہے وہ درحقیقت احادیثِ صحیحہ اور اعمالِ سلف صالحین کا منکر اور فقط ہوائے نفس کی اتباع اور اطاعت میں مشغول ہے۔

یہ اَمر بھی قابلِ غور ہے کہ جو عمل خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہو، تابعین، اتباع تابعین اور اسلاف امت اس پر شروع سے ہی عمل پیرا رہے ہوں، فقہائے کرام جسے مستحب قرار دیتے ہوں، کیا وہ عمل بدعت ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا عمل بھی بدعت ہے تو پھر سنت و مستحب عمل کیا ہوگا؟

ماخوذ از ماہنامہ منہاج القرآن، اپریل 2018

تبصرہ

تلاش کریں

تازە ترین

مشہور خبریں