روالپنڈی: منہاج یوتھ لیگ کی نواز شریف کے ملک دشمنی پر مبنی بیان کے خلاف ہنگامی پریس کانفرنس

منہاج یوتھ لیگ کے مرکزی صدر مظہر محمود علوی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم ملکی سالمیت کے لئے پہلے بھی سیکؤرٹی رسک تھے، اب یہ رسک مذید بڑھ چکا ہے، منہاج یوتھ لیگ آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کر کے نواز شریف کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بہت پہلے بتا دیا تھا کہ نواز شریف اقتدار میں آیا نہیں بلکہ ان کو لایا گیا ہے، انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے نواز شریف اینڈ کمپنی کو اقتدار میں لایا ہے، جن قوتوں نے ان کو سپوٹ کیا ان کو فنانس کیا آج وہی قوتیں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ نواز شریف اینڈ کمپنی ملک کے لئے سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں، منہاج یوتھ لیگ پورے ملک میں سراپا احتجاج ہے۔ منہاج یوتھ لیگ ملک کے غداروں کو بے نقاب کرنے کے لئے بیداری شعور تحریک کا آغاز کررہی ہے، منہاج یوتھ لیگ ملک بھر میں ’’اے ارض وطن کے غدارو ہم تم سے بغاوت کرتے ہیں‘‘ کہ عنوان سے احتجاج کرے گی، اور ملکی سالمیت کے خلاف ان غداروں کی سازشوں کو بے نقاب کرے گی۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے نواز شریف کے ملک دشمنی پر مبنی بیان کے خلاف روالپنڈی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر یوتھ لیگ کے دیگر عہدیداران، عمر قریشی، فرقان یوسف، عامر جاوید، وسیم خٹک، سید قمر گردیزی، میڈیا کوآرڈینیٹر غلام علی خان، سہیل عباسی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

مظہر علوی نے کہا کہ قائد عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری نے دو سال قبل جو جو باتیں کی تھیں آج ہر بات سچ ثابت ہو چکی ہے، 3 بار وزیراعظم رہنے والے شخص کے حوالے سے ممبئی حملوں سے متعلق پاکستان پر الزام نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے، یہ ریاست کے خلاف اعلان بغاوت ہے اور بھارتی بیانیہ کی ترجمانی ہے، ممبئی حملوں میں پاکستان سے دہشتگرد انڈیا بھیجے جانے کے انتہائی گھناؤنے اور سنگین الزام پر منہاج یوتھ لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ سابق وزیراعظم مذکورہ میڈیا رپورٹ کے تناظر میں وضاحت پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری بہت پہلے اس بات کا انکشاف پوری قوم پر کر چکے ہیں کہ نواز شریف ملک کے لئے سیکیورٹی رسک ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ان کے روابط ملک دشمنی اور بھارت نوازی کی واضح ثبوت موجود ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری یہ بات بھی قوم کے روبرو پیش کرچکے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا جاتی امراء، نجی تقریب میں آنا، جندال کا بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نااہل سے ون ٹو ون ملاقات کرنا اور پاکستان کوتوڑنے کے ایجنڈے پر کام کرنیوالے کلبھوشن کی گرفتاری پر مذمت نہ کرنا اور گذشتہ پانچ سال میں 70سال سے زیادہ کنڑول لائن پر حملے ہونا بلاجواز نہیں ہے۔

بھارت دہشتگرد بھیجے جانے کے گھناؤنے الزام کے بعد اس امر میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ نااہل کرپٹ ہی نہیں سیکیورٹی رسک بھی ہے۔ اشرافیہ کی شوگر ملز میں بھارتی ٹیکنیشنز کی موجودگی کی اطلاع دی تھی جس کے فوری بعد مل کو آگ لگ گئی تھی، کون کون سے بھارتی ان کی شوگر ملز میں کام کر رہے تھے ان کے عہدے اور پاسپورٹ نمبرز بھی میڈیا کو جاری کر دیئے گئے تھے، نااہل نواز شریف غداری قوم پر عیاں ہو چکی۔ مظہر علوی نے مطالبہ کیاکہ الزام تراشی کی صداقت جاننے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے۔ بھارت میں دہشتگرد بھیجنے کا الزام دہشتگردی کی جنگ اور 70 ہزار سے زائد قربانیوں سے غداری ہے۔ اگر اس میں کوئی بال برابر بھی صداقت ہے تو پھر وہ بطور وزیر اعظم چار سال خاموش کیوں رہے؟

تبصرہ